احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

4: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ
باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
سنن ترمذي حدیث نمبر: 1468
حدثنا محمود بن غيلان , حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة , عن ابي بشر، قال: سمعت سعيد بن جبير يحدث , عن عدي بن حاتم , قال: قلت: يا رسول الله , ارمي الصيد فاجد فيه من الغد سهمي , قال: " إذا علمت ان سهمك قتله ولم تر فيه اثر سبع فكل " , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح , والعمل على هذا عند اهل العلم , وروى شعبة هذا الحديث , عن ابي بشر , وعبد الملك بن ميسرة , عن سعيد بن جبير , عن عدي بن حاتم مثله , وكلا الحديثين صحيح , وفي الباب , عن ابي ثعلبة الخشني.
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر اگلے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں (اس شکار کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے ہی تیر نے شکار کو مارا ہے اور تم اس میں کسی اور درندے کا اثر نہ دیکھو تو اسے کھاؤ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- شعبہ نے یہ حدیث ابوبشر سے اور عبدالملک بن میسرہ نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کی ہے، دونوں روایتیں صحیح ہیں،
۳- اس باب میں ابوثعلبہ خشنی سے بھی روایت ہے،
۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔

تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 1465 (تحفة الأشراف: 9854) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اس شکار پر تیر کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز کا بھی اثر ہے جس سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس کی موت اس دوسرے اثر سے ہوئی ہو تو ایسا شکار حلال نہیں ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2539)

Share this: