📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار (كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سابقہ باب سے متعلق کا ایک اور باب۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3511 Jami at-Tirmidhi 3511
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
84: باب مِنْهُ
باب: سابقہ باب سے متعلق کا ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سورة البقرة آية 156 اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مِنْهَا خَيْرًا "، فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اخْلُفْ فِي أَهْلِي خَيْرًا مِنِّي، فَلَمَّا قُبِضَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سورة البقرة آية 156 عِنْدَ اللَّهِ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.
ابوسلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ” ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ ! میں اپنی مصیبتوں کا اجر تجھ سے چاہتا ہوں مجھے تو ان پر ( صبر کرنے کا ) اچھا اجر دے ، اور ان مصیبتوں کے بدلے مجھے ان سے اچھا دے “ ، پڑھنا چاہیئے ، پھر جب ابوسلمہ رضی الله عنہ کی موت کا وقت آ گیا تو انہوں نے دعا کی : «اللهم اخلف في أهلي خيرا مني» ” اے اللہ ! میرے گھر والوں میں مجھ سے بہتر ذات کو میرا خلیفہ و جانشیں بنا دے “ ، اور جب ان کی موت واقع ہو گئی تو ام سلمہ رضی الله عنہا نے کہا : «إنا لله وإنا إليه راجعون عند الله احتسبت مصيبتي فأجرني فيها» ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ام سلمہ رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ¤ ۳- اور ابوسلمہ رضی الله عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3511]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد - أم سلمة نحوه
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 55 (1598) (تحفة الأشراف: 6577) (ضعیف) (تراجع الالبانی 341)
جامع الترمذي • حدیث #3511
3509 3510 3511 3512 3513
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ