جامع الترمذي حدیث نمبر: 3109
Jami at-Tirmidhi 3109
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: " كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ "، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَكِيعُ بْنُ حُدُسٍ، وَيَقُولُ شُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ: وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ وَهُوَ أَصَحُّ، وَأَبُو رَزِينٍ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابورزین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا ؟ آپ نے فرمایا : ” عماء میں تھا ، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر ۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا ۱؎ “ ، احمد بن منیع کہتے ہیں : ( ہمارے استاد ) یزید نے بتایا : عماء کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں ” وكيع بن حدس “ کہا ہے اور شعبہ ، ابو عوانہ اور ہشیم نے ” وكيع بن عدس “ کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3109]
💡 وضاحت:
۱؎: عماء : اگر بالمد ہو تو اس کے معنی سحاب ، رقیق (بدلی) کے ہیں، اور اگر بالقصر ہو تو اس کے معنی لاشیٔ کے ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (281) // {كذا} وهو في " ضعيف سنن ابن ماجة " برقم (32 - 182)، مختصر العلو (193 و 250)، السنة (612)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (181) (تحفة الأشراف: 11176) (ضعیف)