جامع الترمذي حدیث نمبر: 3111
Jami at-Tirmidhi 3111
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
12: باب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ سورة هود آية 105 سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَعَلَى مَا نَعْمَلُ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ عَلَى شَيْءٍ لَمْ يُفْرَغْ مِنْهُ؟ قَالَ: " بَلْ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ وَجَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ يَا عُمَرُ وَلَكِنْ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» ” سو ان میں کوئی بدبخت ہو گا اور کوئی نیک بخت “ ( ہود : ۱۰۵ ) ، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے نبی ! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں ؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہو چکی ہے ( یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے ) ؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے ۔ ( یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا ) آپ نے فرمایا : ” عمر ! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہو چکی ہے ۔ ( اور ہمارے عمل سے پہلے ) وہ چیز ضبط تحریر میں آ چکی ہے ۲؎ ، لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے “ ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3111]
💡 وضاحت:
۲؎: ہمارے وجود میں آنے سے پہلے ہی سب کچھ لکھا جا چکا ہے کہ ہم پیدا ہو کر کیا کچھ کریں گے اور کس انجام کو پہنچیں گے۔
۳؎: نیک کو نیک عمل کی اور برے کو برے عمل کی توفیق دی جاتی ہے۔
۳؎: نیک کو نیک عمل کی اور برے کو برے عمل کی توفیق دی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الظلال (161 - 166)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3111) إسناده ضعيف ¤ سليمان بن سفيان ضعيف (تقدم: 2167) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10540) (صحیح)