جامع الترمذي حدیث نمبر: 3107
Jami at-Tirmidhi 3107
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
11: باب وَمِنْ سُورَةِ يُونُسَ
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَمَّا أَغْرَقَ اللَّهُ فِرْعَوْنَ قَالَ: {آمَنْتُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ} فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! فَلَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ؛ فَأَدُسُّهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ نے فرعون کو ڈبویا تو اس نے ( اس موقع پر ) کہا «آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل» کہ ” میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں “ ( یونس : ۹۰ ) ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے محمد ! کاش اس وقت میری حالت دیکھی ہوتی ۔ میں اس ڈر سے کہ کہیں اس ( مردود ) کو اللہ کی رحمت حاصل نہ ہو جائے ، میں سمندر سے کیچڑ نکال نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3107]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما بعده (3106)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3107) إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم: 589) والحديث الأتي (الأصل: 3108) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف وانظر مایأتي (تحفة الأشراف: 6560) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیچے آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)