جامع الترمذي حدیث نمبر: 3105
Jami at-Tirmidhi 3105
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
11: باب وَمِنْ سُورَةِ يُونُسَ
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، قَالُوا: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُنْجِّنَا مِنَ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ؟ قَالَ: فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ"، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، مَرْفُوعًا، وَرَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ” جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی ( جنت ) ہے اور مزید برآں بھی ( یعنی دیدار الٰہی ) “ ( یونس : ۲۶ ) ، کی تفسیر اس طرح فرمائی : ” جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے ۔ تو وہ جنتی کہیں گے : کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے ؟ ( اب کون سی نعمت باقی رہ گئی ہے ؟ ) “ ، آپ نے فرمایا : ” پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا “ ، آپ نے فرمایا : ” قسم اللہ کی ! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز دی ہی نہیں جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہو ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- حماد بن سلمہ کی حدیث ایسی ہی ہے ، ¤ ۲- کئی ایک نے اسے حماد بن سلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ سلیمان بن مغیرہ نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یہ روایت صہیب سے ہے اور صہیب رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3105]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (187)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 80 (181)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (187) (تحفة الأشراف: 4968) (صحیح)