جامع الترمذي حدیث نمبر: 3085
Jami at-Tirmidhi 3085
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
9: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْفَالِ
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ سُودِ الرُّءُوسِ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا "، قَالَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ: فَمَنْ يَقُولُ هَذَا إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ الْآنَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَقَعُوا فِي الْغَنَائِمِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68، قَالَ 12 أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم مسلمانوں سے پہلے کسی کالے بالوں والے ( مراد ہے انسان ) کے لیے اموال غنیمت حلال نہ تھے ، آسمان سے ایک آگ آتی اور غنائم کو کھا جاتی ( بھسم کر دیتی ) سلیمان اعمش کہتے ہیں : اسے ابوہریرہ کے سوا اور کون کہہ سکتا ہے اس وقت ؟ بدر کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ قبل اس کے کہ اموال غنیمت تقسیم کر کے ہر ایک کو دے کر ان کے لیے حلال کر دی جاتیں وہ لوگ اموال غنیمت پر ٹوٹ پڑے ۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت «لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم» ” اگر پہلے سے تمہارے حق میں اللہ کی جانب سے لکھا نہ جا چکا ہو تاکہ تمہیں غنائم ملیں گے تو تمہیں تمہارے اس کے لینے کے سبب سے بڑا عذاب پہنچتا “ ( الأنفال : ۶۸ ) نازل فرمائی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3085]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2155)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3085) إسناده ضعيف ¤ سليمان الاعمش عنعن (تقدم: 169) وحديث البخاري (3124) ومسلم (1747) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12378)، وانظر صحیح مسلم/الجھاد 11 (1747)، و مسند احمد (2/252، 317، 318) (صحیح)