جامع الترمذي حدیث نمبر: 3080
Jami at-Tirmidhi 3080
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
9: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْفَالِ
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ قِيلَ لَهُ: عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ، قَالَ: فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ فِي وَثَاقِهِ لَا يَصْلُحُ، وَقَالَ: " لِأَنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ "، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے نمٹ چکے تو آپ سے کہا گیا ( شام سے آتا ہوا ) قافلہ آپ کی زد اور نشانے پر ہے ، اس پر غالب آنے میں کوئی چیز مانع اور رکاوٹ نہیں ہے ۔ تو عباس نے آپ کو پکارا ، اس وقت وہ ( قیدی تھے ) زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے ، اور کہا : آپ کا یہ اقدام ( اگر آپ نے ایسا کیا ) تو درست نہ ہو گا ، اور درست اس لیے نہ ہو گا کہ اللہ نے آپ سے دونوں گروہوں ( قافلہ یا لشکر ) میں سے کسی ایک پر فتح و غلبہ کا وعدہ کیا تھا ۱؎ اور اللہ نے آپ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم سچ کہتے ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ © ۱؎ : یہ اللہ تعالیٰ کا قول : «وإذ يعدكم الله إحدى الطائفتين أنها لكم» ( الانفال : ۷ ) کی طرف اشارہ ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3080]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3080) إسناده ضعيف ¤ سلسله سماك عن عكرمة: ضعيفة (تقدم: 65)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 612) (ضعیف الإسناد) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے)