جامع الترمذي حدیث نمبر: 3083
Jami at-Tirmidhi 3083
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
9: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْفَالِ
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60، قَالَ: أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ سَيَفْتَحُ لَكُمُ الْأَرْضَ وَسَتُكْفَوْنَ الْمُؤْنَةَ فَلَا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَحَدِيثُ وَكِيعٍ أَصَحُّ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ لَمْ يُدْرِكْ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ وَقَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت : «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ” تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو “ ( الانفال : ۶۰ ) پڑھی ، اور فرمایا : «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے ۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی ، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا ۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا ۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی ( نیزہ بازی اور ) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے ، ¤ ۲- ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے ، ¤ ۳- وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۴- صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے ، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3083]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (2813)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 52 (1917)، سنن ابی داود/ الجھاد 24 (2514)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 19 (2813) (تحفة الأشراف: 9975)، و مسند احمد (4/157)، وسنن الدارمی/الجھاد 14 (2448) (صحیح) (سند میں ایک راوی مبہم ہے جو دوسروں کی سند میں نہیں ہے، لیکن متابعات کی بنا پر مؤلف کی یہ روایت صحیح لغیرہ ہے)