جامع الترمذي حدیث نمبر: 3012
Jami at-Tirmidhi 3012
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
4: باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180 الْآيَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180، وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِيَمِينٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ شُجَاعهًا أَقْرَعَ يَعْنِي حَيَّةً.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا “ ، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» ۱؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۲؎ تلاوت فرمائی ، اور فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم ( اور سخت غصے میں ) ہو گا “ ، پھر آپ نے اس کی مصداق آیت : «إن الذين يشترون بعهد الله» پڑھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3012]
💡 وضاحت:
۱؎: ”جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے“ (آل عمران: ۱۸۰)۔
۲؎: ”عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے“ (آل عمران: ۱۸۰)۔
۲؎: ”عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے“ (آل عمران: ۱۸۰)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مشكلة الفقر (60)، التعليق الرغيب (1 / 68)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 2 (2443)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 2 (1784) (تحفة الأشراف: 9237، 9284)، و مسند احمد (1/377)، وللشطر الثاني انظر حدیث رقم 1269) (صحیح)