جامع الترمذي حدیث نمبر: 1684
Jami at-Tirmidhi 1684
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " لَمَّا بَلَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، مَرَّ الظَّهْرَانِ، فَآذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرالظہران ۱؎ پہنچے اور ہم کو دشمن سے مقابلہ کی خبر دی تو آپ نے روزہ توڑنے کا حکم دیا ، لہٰذا ہم سب لوگوں نے روزہ توڑ دیا ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1684]
💡 وضاحت:
۱؎: مکہ اور عسفان کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔
۲؎: اگر مجاہدین ایسے مقام تک پہنچ چکے ہیں جس سے آگے دشمن سے ملاقات کا ڈر ہے تو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا بہتر ہے، اور اگر یہ امر یقینی ہے کہ دشمن آگے مقابلہ کے لیے موجود ہے تو روزہ توڑ دینا ضروری ہے۔
۲؎: اگر مجاہدین ایسے مقام تک پہنچ چکے ہیں جس سے آگے دشمن سے ملاقات کا ڈر ہے تو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا بہتر ہے، اور اگر یہ امر یقینی ہے کہ دشمن آگے مقابلہ کے لیے موجود ہے تو روزہ توڑ دینا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2081)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 4284) (صحیح) وأخرجہ: صحیح مسلم/الصیام 16 (1120)، سنن ابی داود/ الصیام 42 (2406)، سنن النسائی/الصیام 59 (2311)