جامع الترمذي حدیث نمبر: 1685
Jami at-Tirmidhi 1685
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ عِنْدَ الْفَزَعِ
باب: گھبراہٹ کے وقت باہر نکلنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: مَنْدُوبٌ، فَقَالَ: " مَا كَانَ مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو گئے اس گھوڑے کو «مندوب» کہا جاتا تھا : کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں تھی ، اس گھوڑے کو ہم نے چال میں سمندر پایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1685]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بے انتہا تیز رفتار تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2772)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الہبة 33 (2627)، والجہاد 55 (2867)، صحیح مسلم/الفضائل 11 (2307/49)، سنن ابی داود/ الأدب 87 (4988)، (تحفة الأشراف: 1238) (صحیح)