جامع الترمذي حدیث نمبر: 1674
Jami at-Tirmidhi 1674
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
4: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُسَافِرَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ
باب: تنہا سفر کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هُوَ ثِقَةٌ صَدُوقٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ لَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا.
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اکیلا سوار شیطان ہے ، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1674]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اکیلا یا دو آدمیوں کا سفر کرنا صحیح نہیں ہے، تنہا ہونے میں کسی حادثہ کے وقت کوئی اس کا معاون و مددگار نہیں رہے گا، اسی طرح دو ہونے کی صورت میں ایک کو کسی ضرورت کے لیے جانا پڑا تو ایسی صورت میں پھر دونوں تنہا ہو جائیں گے، اور اگر ایک دوسرے کو وصیت کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی گواہ نہیں ہو گا جب کہ دو گواہ کی ضرورت پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (64)، المشكاة (3910)، صحيح أبي داود (2346)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 86 (2607)، (تحفة الأشراف: 8740)، وط/الاستئذان 14 (35)، و مسند احمد (2/186، 214) (حسن)