جامع الترمذي حدیث نمبر: 1672
Jami at-Tirmidhi 1672
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ فِي قَوْلِهِ: أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيُّ: " بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ، أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ابن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ : أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم کی تفسیر میں کہتے ہیں : عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اکیلا ) سریہ بنا کر بھیجا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1672]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں أولو الأمر کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں، مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ ولاۃ و أمراء ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے، بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ علما اور امرا دونوں مراد ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2359)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة النساء 11 (4584)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1834)، سنن ابی داود/ الجہاد 96 (2624)، سنن النسائی/البیعة 28 (4205)، (تحفة الأشراف: 5651) (صحیح)