📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل (كتاب المواقيت) 🏷️ باب: باب: جاڑے میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 500 Sunan an-Nasa'i 500
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
4: بَابُ : تَعْجِيلِ الظُّهْرِ فِي الْبَرْدِ
باب: جاڑے میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ۱؎ ٹھنڈی کر کے پڑھتے ۲؎ اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 500]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری کی روایت میں کسی راوی نے «صلاة» کی تفسیر جمعہ سے کی ہے، کیونکہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ کسی سائل نے انس رضی اللہ عنہ سے جمعہ ہی کے بارے میں پوچھا تھا (فتح الباری) مؤلف نے اس کے مطلق لفظ «الصلاة» سے استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ جمعہ اور ظہر کا وقت معتاد ایک ہی ہے۔ ۲؎: یعنی گرمی کی شدت کے سبب اس کے معتاد وقت سے اسے اتنا مؤخر کرتے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہو جاتا کہ اس میں چل کر لوگ مسجد آ سکیں، اور گرمی کی شدت کم ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 17 (906)، وفیہ ’’یعنی الجمعة‘‘، (تحفة الأشراف: 823) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #500
498 499 500 501 502
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ