سنن النسائي حدیث نمبر: 499
Sunan an-Nasa'i 499
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
3: بَابُ : تَعْجِيلِ الظُّهْرِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ.
حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر سے پہلے ) جب کسی جگہ اترتے ۱؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے ، اس پر ایک آدمی نے کہا : اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ؟ انہوں نے کہا : اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 499]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے اترتے، جیسا کہ دیگر روایات میں ہے۔ ۲؎: مراد زوال کے فوراً بعد ہے، کیونکہ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 273 (1205)، (تحفة الأشراف: 555)، مسند احمد 3/120، 129 (صحیح)