سنن النسائي حدیث نمبر: 501
Sunan an-Nasa'i 501
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
5: بَابُ : الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ
باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو ، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 501]
💡 وضاحت:
۱؎: جمہور علماء نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے، یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے اس لیے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو اور احتیاط کرو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 4 (677)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 7 (28)، (تحفة الأشراف: 13226)، مسند احمد 2/229، 238، 256، 266، 348، 377، 393، 400، 411، 462، سنن الدارمی/الصلاة 14 (1243)، والرقاق 119 (2887)، وعن طریق أبی سلمة بن عبدالرحمن عن أبی ہریرة، (تحفة الأشراف: 15237) (صحیح)