سنن النسائي حدیث نمبر: 4982
Sunan an-Nasa'i 4982
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
16: بَابُ : الْقَطْعِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ".
بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” سفر میں ( چور کے ) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4982]
💡 وضاحت:
۱؎: ترمذی اور مسند احمد میں «السفر» کی جگہ «الغزو» (یعنی: «غزوہ» ) ہے، لہٰذا اس حدیث میں بھی «سفر» سے مراد «غزو» ہو گا، اور «غزو» مراد لینے کی وجہ سے اس میں اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت «أقیموا الحدود فی السفر والحضر» میں کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا۔ یعنی ”عبادہ رضی اللہ عنہ میں وارد لفظ «سفر» سے عام سفر مراد ہے“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحدود 18 (4408)، سنن الترمذی/الحدود 20 (1450)، (تحفة الأشراف: 2015)، مسند احمد (4/181) (صحیح)