📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل (كتاب قطع السارق) 🏷️ باب: باب: چور کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4981 Sunan an-Nasa'i 4981
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
15: بَابُ : قَطْعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ مِنَ السَّارِقِ
باب: چور کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ" فَقُطِعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ" فَقُطِعَ، فَأُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: " اقْطَعُوهُ"، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوهُ"، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، قَالَ: " اقْتُلُوهُ" , قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَد النَّعَمِ وَحَمَلْنَاهُ فَاسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ كَشَّرَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَانْصَدَعَتِ الْإِبِلُ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ , ثُمَّ رَمَيْنَا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ , وَمُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اس نے صرف چوری کی ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” ( اس کا دایاں ہاتھ ) کاٹ دو “ ، تو کاٹ دیا گیا ، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( اس کا بایاں پاؤں ) کاٹ دو “ ، چنانچہ کاٹ دیا گیا ، پھر وہ تیسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” ( اس کا دایاں پاؤں ) کاٹ دو “ ، پھر وہ چوتھی بار لایا گیا ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” ( اس کا بایاں پاؤں ) کاٹ دو “ ، وہ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو ہم اسے «مربد نعم» ( جانور باندھنے کی جگہ ) کی جانب لے کر چلے اور اسے لادا ، تو وہ چت ہو کر لیٹ گیا پھر وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل بھاگا تو اونٹ بدک گئے ، لوگوں نے اسے دوبارہ لادا اس نے پھر ایسا ہی کیا پھر تیسری بار لادا پھر ہم نے اسے پتھر مارے اور اسے قتل کر دیا ، اور ایک کنویں میں ڈال دیا پھر اوپر سے اس پر پتھر مارے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ، مصعب بن ثابت حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4981]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحدود 20 (4410)، (تحفة الأشراف: 3082) (حسن) (اس کے راوی ”مصعب“ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن یہ حکم منسوخ ہے)
سنن النسائي • حدیث #4981
4979 4980 4981 4982 4983
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ