📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل (كتاب قطع السارق) 🏷️ باب: باب: ہاتھ کے بعد چور کے پاؤں کاٹنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4980 Sunan an-Nasa'i 4980
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
14: بَابُ : قَطْعِ الرِّجْلِ مِنَ السَّارِقِ بَعْدَ الْيَدِ
باب: ہاتھ کے بعد چور کے پاؤں کاٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْمَصَاحِفِيُّ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُوسُفُ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: " اقْطَعُوا يَدَهُ"، قَالَ: ثُمَّ سَرَقَ، فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ، ثُمَّ سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَتَّى قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ كُلُّهَا، ثُمَّ سَرَقَ أَيْضًا الْخَامِسَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِهَذَا حِينَ، قَالَ: " اقْتُلُوهُ"، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ لِيَقْتُلُوهُ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ يُحِبُّ الْإِمَارَةَ، فَقَالَ: أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ فَأَمَّرُوهُ عَلَيْهِمْ فَكَانَ إِذَا ضَرَبَ ضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ.
حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے تو چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو “ ۔ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے تو چوری کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” اس کا ہاتھ کاٹ دو “ ۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ، پھر اس نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں چوری کی یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے ، اس نے پھر پانچویں بار چوری کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا ، پھر انہوں نے اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں ۔ ان میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے ، وہ سرداری چاہتے تھے ، انہوں نے کہا : مجھے اپنا امیر بنا لو ، تو ان لوگوں نے انہیں اپنا امیر بنا لیا ، چنانچہ جب چور کو انہوں نے مارا تو سبھوں نے مارا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4980]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی اس طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن کسی بھی امام کے نزدیک اس پر عمل نہیں ہے، وجہ اس کا منسوخ ہو جانا ہے جیسا کہ امام شافعی نے کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3276) (صحیح الإسناد) (یہ حکم منسوخ ہے)
سنن النسائي • حدیث #4980
4978 4979 4980 4981 4982
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ