سنن النسائي حدیث نمبر: 4895
Sunan an-Nasa'i 4895
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
5: بَابُ : مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لاَ يَكُونُ
باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ , فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، فَقُطِعَتْ يَدُهَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی ، چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، اس نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا “ ، چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4895]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحدود 2 (1689)، (تحفة الأشراف: 2949) (صحیح)