سنن النسائي حدیث نمبر: 4888
Sunan an-Nasa'i 4888
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
5: بَابُ : مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لاَ يَكُونُ
باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سُرِقَتْ خَمِيصَتُهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ اللِّصَّ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَتَقْطَعُهُ؟، قَالَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ تَرَكْتَهُ؟".
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک چادر ان کے سر کے نیچے سے چوری ہو گئی اور وہ مسجد نبوی میں سو رہے تھے ، انہوں نے چور پکڑ لیا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” تو پھر اسے میرے پاس لانے سے پہلے ہی کیوں نہ چھوڑ دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4888]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4882 (صحیح)