سنن النسائي حدیث نمبر: 458
Sunan an-Nasa'i 458
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
3: بَابُ : كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ
باب: نماز کیسے فرض ہوئی؟
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تَقْصُرُ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ سورة النساء آية 101؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَانَا وَنَحْنُ ضُلَّالٌ فَعَلَّمَنَا، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ". قَالَ الشُّعَيْثِيُّ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز ( بغیر خوف کے ) کیسے قصر کرتے ہیں ؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : «فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم» ” اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں “ ( النساء : ۱۰۱ ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا : بھتیجے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے ، آپ نے ہمیں تعلیم دی ، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں ، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 458]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/إقامة 73 (1066)، مسند احمد 2/94، 148، ویأتي عند المؤلف (برقم: 1435) (صحیح)