سنن النسائي حدیث نمبر: 456
Sunan an-Nasa'i 456
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
3: بَابُ : كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ
باب: نماز کیسے فرض ہوئی؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نماز دو دو رکعت فرض کی گئی ، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) برقرار رکھی گئی ، اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 456]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن خزیمہ (۱/۱۵۷) اور ابن حبان (۳/۱۸۰) کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے، تو حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا گیا، اور فجر اور مغرب کی نماز میں اضافہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے اور مغرب دن کی وتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 1 (350)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین1 (685)، سنن ابی داود/الصلاة 270 (1198)، (تحفة الأشراف: 16348)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 2 (8)، مسند احمد 6/272 (صحیح)