📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: مال فی کی تقسیم سے متعلق احکام و مسائل (كتاب قسم الفىء) 🏷️ باب: باب:
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4153 Sunan an-Nasa'i 4153
کتاب #43: کتاب: مال فی کی تقسیم سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: جَاء الْعَبَّاسُ , وَعَلِيٌّ إِلَى عُمَرَ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، فَقَالَ النَّاسُ: افْصِلْ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: لا أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا , قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، قَالَ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ مِنْهَا قُوتَ أَهْلِهِ , وَجَعَلَ سَائِرَهُ سَبِيلَهُ سَبِيلَ الْمَالِ، ثُمَّ وَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، ثُمَّ وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعْتَ فِيهَا الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ، ثُمَّ أَتَيَانِي فَسَأَلَانِي، أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ , فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا , وَأَخَذْتُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمَا، ثُمَّ أَتَيَانِي يَقُولُ: هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنَ ابْنِ أَخِي , وَيَقُولُ: هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنِ امْرَأَتِي، وَإِنْ شَاءَا أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا، وَإِنْ أَبَيَا كُفِيَا ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الأنفال آية 41 هَذَا لِهَؤُلَاءِ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 60 هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6. قَالَ الزُّهْرِيُّ: هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً , قُرًى عَرَبِيَّةً فَدْكُ كَذَا وَكَذَا! فَـ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الحشر آية 7 وَ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ سورة الحشر آية 8 وَ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ سورة الحشر آية 9 وَ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ سورة الحشر آية 10 فَاسْتَوْعَبَتْ هَذِهِ الْآيَةُ النَّاسَ , فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا لَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ، أَوْ قَالَ: حَظٌّ , إِلَّا بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ وَلَئِنْ عِشْتُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقُّهُ، أَوْ قَالَ: حَظُّهُ.
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عباس اور علی رضی اللہ عنہما جھگڑتے ہوئے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کیجئیے ، لوگوں نے کہا : ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیجئیے ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا ، انہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ہمارا ترکہ کسی کو نہیں ملتا ، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : زہری ۱؎ نے ( آگے روایت کرتے ہوئے اس طرح ) کہا : ( عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جب ) اس مال کے ولی و نگراں رہے تو اس میں اپنے گھر والوں کے خرچ کے لیے لیتے اور باقی سارا اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ، پھر آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ متولی ہوئے اور ان کے بعد میں متولی ہوا ، تو میں نے بھی اس میں وہی کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے ، پھر یہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ اسے میں ان کے حوالے کر دوں کہ وہ اس میں اس طرح عمل کریں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور جیسے ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے اور جیسے تم کرتے ہو ، چنانچہ میں نے اسے ان دونوں کو دے دیا اور اس پر ان سے اقرار لے لیا ، پھر اب یہ میرے پاس آئے ہیں ، یہ کہتے ہیں : میرے بھتیجے کی طرف سے میرا حصہ مجھے دلائیے ۲؎ اور وہ کہتے ہیں : مجھے میرا حصہ بیوی کی طرف سے دلائیے ۳؎ ، اگر انہیں منظور ہو کہ میں وہ مال ان کے سپرد کر دوں اس شرط پر کہ یہ دونوں اس میں اسی طرح عمل کریں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور جیسے میں نے کیا تو میں ان کے حوالے کرتا ہوں ، اور اگر انہیں ( یہ شرط ) منظور نہ ہو تو وہ گھر میں بیٹھیں ۴؎ ، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں : «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» ” جان لو جو کچھ تمہیں غنیمت میں ملے تو اس کا خمس اللہ کے لیے ہے ، رسول کے لیے ، ذی القربی ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے “ ( الانفال : ۴۱ ) ۔ اور یہ ان لوگوں کے لیے ہے «إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل اللہ‏» ” صدقات فقراء ، مساکین ، زکاۃ کا کام کرنے والے لوگوں ، مؤلفۃ القلوب ، غلاموں ، قرض داروں اور مسافروں کے لیے ہیں “ ( التوبہ : ۶۰ ) ۔ اور یہ ان لوگوں کے لیے ہے ” «وما أفاء اللہ على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» ” اور ان کی طرف سے جو اللہ اپنے رسول کو لوٹائے تو جس پر تم نے گھوڑے دوڑائے اور زین کسے “ ( الحشر : ۶ ) ۔ زہری کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے اور وہ عربیہ کے چند گاؤں ہیں جیسے فدک وغیرہ ۔ اور اسی طرح «ما أفاء اللہ على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل ، ‏ و ، ‏ للفقراء المهاجرين الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم ، والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم ، والذين جاءوا من بعدهم» ” جو اللہ گاؤں والوں کی طرف سے اپنے رسول پر لوٹائے تو وہ اللہ کے لیے رسول کے لیے اور ذی القربی ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور ان فقراء مہاجرین لوگوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے اموال سے نکال دیے گئے اور جنہوں نے الدار ( مدینہ ) کو اپنا جائے قیام بنایا اور ایمان لائے اس سے پہلے اور اس کے بعد “ ( الحشر : ۷-۱۰ ) ، اس آیت میں سبھی لوگ آ گئے ہیں ، اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو ، یا یہ کہا : حصہ نہ ہو ، سوائے چند لوگوں کے جنہیں تم اپنا غلام بناتے ہو اور اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ ہر ایک کو اس کا حق ۔ یا کہا : اس کا نصیب مل کر رہے گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4153]
💡 وضاحت:
۱؎: مالک بن اوس سے اس حدیث کو روایت کرنے والے ایک راوی زہری بھی ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر: ۴۱۴۵ ۲؎: کیونکہ عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ ۳؎: کیونکہ علی رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے۔ ۴؎: یعنی جس عہد و پیمان کے تحت یہ مال تمہیں دیا گیا ہے اسی پر اکتفا کرو مزید کسی مطالبہ کی قطعی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 1 (3094)، المغازي 14 (4033)، النفقات 3 (5358)، الفرائض 3 (6728) إعتصام 5 (7305)، صحیح مسلم/الجہاد 5 (1757)، سنن ابی داود/الخراج 19 (2963)، سنن الترمذی/السیر 44 (1610)، (تحفة الأشراف: 10633) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4153
4151 4152 4153 4154 4155

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4138 أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ...
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری جب عبداللہ بن زبیر کے عہد میں شورش و ہنگامہ کے ایام میں ( حج ...
#4139 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَ...
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ سوال لکھا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ...
#4140 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَن...
اوزاعی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عمر بن ولید کو ایک خط لکھا : تمہارے باپ نے تقسیم کر کے پورا خ...
#4141 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ...
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ...
#4142 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ...
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القربی کا حصہ بنی ہاشم ا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ