سنن النسائي حدیث نمبر: 4140
Sunan an-Nasa'i 4140
کتاب #43: کتاب: مال فی کی تقسیم سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق وَهُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , إِلَى عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ كِتَابًا فِيهِ: " وَقَسْمُ أَبِيكَ لَكَ الْخُمُسُ كُلُّهُ، وَإِنَّمَا سَهْمُ أَبِيكَ كَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَفِيهِ حَقُّ اللَّهِ، وَحَقُّ الرَّسُولِ، وَذِي الْقُرْبَى , وَالْيَتَامَى , وَالْمَسَاكِينِ , وَابْنِ السَّبِيلِ، فَمَا أَكْثَرَ خُصَمَاءَ أَبِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَكَيْفَ يَنْجُو مَنْ كَثُرَتْ خُصَمَاؤُهُ , وَإِظْهَارُكَ الْمَعَازِفَ وَالْمِزْمَارَ بِدْعَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ إِلَيْكَ مَنْ يَجُزُّ جُمَّتَكَ جُمَّةَ السُّوءِ".
اوزاعی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عمر بن ولید کو ایک خط لکھا : تمہارے باپ نے تقسیم کر کے پورا خمس ( پانچواں حصہ ) تمہیں دے دیا ، حالانکہ تمہارے باپ کا حصہ ایک عام مسلمان کے حصے کی طرح ہے ، اس میں اللہ کا حق ہے اور رسول ، ذی القربی ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے ۔ تو قیامت کے دن تمہارے باپ سے جھگڑنے والے اور دعوے دار کس قدر زیادہ ہوں گے ، اور جس شخص پر دعوے دار اتنی کثرت سے ہوں گے وہ کیسے نجات پائے گا ؟ اور جو تم نے باجے اور بانسری کو رواج دیا ہے تو یہ سب اسلام میں بدعت ہیں ، میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تمہارے پاس ایسے شخص کو بھیجوں جو تمہارے بڑے بڑے اور برے لٹکتے بالوں کو کاٹ ڈالے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4140]
💡 وضاحت:
۱؎: جمہ ایسے بالوں کو کہتے ہیں جو گردن تک لٹکتے ہیں، اس طرح کا بال رکھنا مکروہ نہیں ہے، عمر بن عبدالعزیز نے اس لیے ایسا کہا کیونکہ عمر بن الولید اپنے انہیں بالوں کی وجہ سے گھمنڈ میں مبتلا رہتا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد)