سنن النسائي حدیث نمبر: 4139
Sunan an-Nasa'i 4139
کتاب #43: کتاب: مال فی کی تقسیم سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ؟، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ: وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبْتُ إِلَيْهِ: " كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ؟ وَهُوَ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ , وَقَدْ كَانَ عُمَرُ دَعَانَا إِلَى أَنْ يُنْكِحَ مِنْهُ أَيِّمَنَا، وَيُحْذِيَ مِنْهُ عَائِلَنَا، وَيَقْضِيَ مِنْهُ عَنْ غَارِمِنَا، فَأَبَيْنَا إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَهُ لَنَا , وَأَبَى ذَلِكَ , فَتَرَكْنَاهُ عَلَيْهِ".
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ سوال لکھا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) رشتہ داروں کا حصہ ( آپ کے بعد ) کس کا ہے ؟ نجدہ کے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جواب میں نے ہی لکھ کر بھیجا ، میں نے لکھا کہ تم نے یہ سوال مجھے لکھ کر بھیجا ہے کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) رشتہ داروں کا حصہ کس کا ہے ؟ وہ ہم اہل بیت کا ہے ۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا کہ وہ اس مال سے ہماری بیواؤں کا نکاح کرائیں گے ، اس کو ہمارے فقراء و مساکین پر خرچ کریں گے اور ہمارے قرض داروں کا قرض ادا کریں گے ، لیکن ہم اصرار کرتے رہے کہ وہ ہم ہی کو دیا جائے ، تو انہوں نے اس سے انکار کیا ، لہٰذا ہم نے اسے انہیں پر چھوڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4139]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)