📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: مال فی کی تقسیم سے متعلق احکام و مسائل (كتاب قسم الفىء) 🏷️ باب: باب:
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4152 Sunan an-Nasa'i 4152
کتاب #43: کتاب: مال فی کی تقسیم سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " الْخُمُسُ الَّذِي لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَرَابَتِهِ لَا يَأْكُلُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسُ الْخُمُسِ , وَلِذِي قَرَابَتِهِ خُمُسُ الْخُمُسِ، وَلِلْيَتَامَى مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِلْمَسَاكِينِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِابْنِ السَّبِيلِ مِثْلُ ذَلِكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الأنفال آية 41 , وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِلَّهِ سورة الأنفال آية 41 ابْتِدَاءُ كَلَامٍ لِأَنَّ الْأَشْيَاءَ كُلَّهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَعَلَّهُ، إِنَّمَا اسْتَفْتَحَ الْكَلَامَ فِي الْفَيْءِ , وَالْخُمُسِ بِذِكْرِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ الْكَسْبِ وَلَمْ يَنْسِبِ الصَّدَقَةَ إِلَى نَفْسِهِ عَزَّ وَجَلَّ , لِأَنَّهَا أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنِيمَةِ شَيْءٌ , فَيُجْعَلُ فِي الْكَعْبَةِ , وَهُوَ السَّهْمُ الَّذِي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَسَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِمَامِ , يَشْتَرِي الْكُرَاعَ مِنْهُ وَالسِّلَاحَ وَيُعْطِي مِنْهُ مَنْ رَأَى مِمَّنْ رَأَى فِيهِ غَنَاءً وَمَنْفَعَةً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ , وَمِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَالْعِلْمِ , وَالْفِقْهِ , وَالْقُرْآنِ , وَسَهْمٌ لِذِي الْقُرْبَى وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ , وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بَيْنَهُمُ الْغَنِيُّ مِنْهُمْ وَالْفَقِيرُ , وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ لِلْفَقِيرِ مِنْهُمْ دُونَ الْغَنِيِّ , كَالْيَتَامَى , وَابْنِ السَّبِيلِ، وَهُوَ أَشْبَهُ الْقَوْلَيْنِ بِالصَّوَابِ عِنْدِي , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ , وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ، لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ ذَلِكَ لَهُمْ، وَقَسَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، وَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ فَضَّلَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا خِلَافَ نَعْلَمُهُ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي رَجُلٍ لَوْ أَوْصَى بِثُلُثِهِ لِبَنِي فُلَانٍ أَنَّهُ بَيْنَهُمْ، وَأَنَّ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ إِذَا كَانُوا يُحْصَوْنَ فَهَكَذَا كُلُّ شَيْءٍ صُيِّرَ لِبَنِي فُلَانٍ، أَنَّهُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، إِلَّا أَنْ يُبَيِّنَ ذَلِكَ الْآمِرُ بِهِ , وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ , وَسَهْمٌ لِلْيَتَامَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَسَهْمٌ لِلْمَسَاكِينِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَسَهْمٌ لِابْنِ السَّبِيلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ مِنْهُمْ سَهْمُ مِسْكِينٍ , وَسَهْمُ ابْنِ السَّبِيلِ، وَقِيلَ لَهُ: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ , وَالْأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ يَقْسِمُهَا الْإِمَامُ بَيْنَ مَنْ حَضَرَ الْقِتَالَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْبَالِغِينَ".
مجاہد کہتے ہیں کہ ( قرآن میں ) جو خمس اللہ اور رسول کے لیے آیا ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رشتہ داروں کے لیے تھا ، وہ لوگ صدقہ و زکاۃ کے مال سے نہیں کھاتے تھے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خمس کا خمس تھا اور رشتہ داروں کے خمس کا خمس اور اتنا ہی یتیموں کے لیے ، اتنا ہی فقراء و مساکین کے لیے اور اتنا ہی مسافروں کے لیے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں مال غنیمت سے ملے تو : اللہ کے لیے ، رسول کے لیے ، رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے اس کا خمس ہے ، اللہ کے اس فرمان «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» میں اللہ کا قول «لِلَّهِ» ” یعنی اللہ کے لیے ہے “ ابتدائے کلام کے طور پر ہے کیونکہ تمام چیزیں اللہ ہی کی ہیں اور مال فیٔ اور خمس کے سلسلے میں بات کی ابتداء بھی اس ” اپنے ذکر “ سے شاید اس لیے کی ہے کہ وہ سب سے اعلیٰ درجے کی کمائی ( روزی ) ہے ، اور صدقے کی اپنی طرف نسبت نہیں کی ، اس لیے کہ وہ لوگوں کا میل ( کچیل ) ہے ۔ واللہ اعلم ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ غنیمت کا کچھ مال لے کر کعبے میں لگایا جائے گا اور یہی اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے اور نبی کا حصہ امام کے لیے ہو گا جو اس سے گھوڑے اور ہتھیار خریدے گا ، اور اسی میں سے وہ ایسے لوگوں کو دے گا جن کو وہ مسلمانوں کے لیے مفید سمجھے گا جیسے اہل حدیث ، اہل علم ، اہل فقہ ، اور اہل قرآن کے لیے ، اور ذی القربی کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کا ہے ، ان میں غنی ( مالدار ) اور فقیر سب برابر ہیں ، ایک قول کے مطابق ان میں بھی غنی کے بجائے صرف فقیر کے لیے ہے جیسے یتیم ، مسافر وغیرہ ، دونوں اقوال میں مجھے یہی زیادہ صواب سے قریب معلوم ہوتا ہے ، واللہ اعلم ۔ اسی طرح چھوٹا ، بڑا ، مرد ، عورت سب برابر ہوں گے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ان سب کے لیے رکھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہی سب میں تقسیم کیا ہے ، اور حدیث میں کہیں ایسا نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی ہو ، ہمیں اس سلسلے میں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا بھی علم نہیں ہے کہ ایک شخص اگر کسی کی اولاد کے لیے ایک تہائی کی وصیت کرے تو وہ ان سب میں تقسیم ہو گا اور مرد و عورت اس سلسلے میں سب برابر ہوں گے جب وہ شمار کئے جائیں گے ، اسی طرح سے ہر وہ چیز جو کسی کی اولاد کے لیے دی گئی ہو تو وہ ان میں برابر ہو گی ، سوائے اس کے کہ اس چیز کا حکم کرنے والا اس کی وضاحت کر دے ۔ «واللہ ولی التوفیق» ۔ اور ایک حصہ مسلم یتیموں کے لیے اور ایک حصہ مسلم مساکین کے لیے اور ایک حصہ مسلم مسافروں کے لیے ہے ۔ ان میں سے کسی کو مسکین کا حصہ اور مسافر کا حصہ نہیں دیا جائے گا ، اور اس سے کہا جائے گا کہ ان ( دو ) میں سے جو چاہے لے لے اور بقیہ چار خمس کو امام ان بالغ مسلمانوں میں تقسیم کرے گا جو جنگ میں شریک ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4152]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مرسل
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، خصيف: ليس بالقوي،كما قال النسائي فى كتاب الضعفاء والمتروكين (177) وضعفه الجمهور (انظر سنن أبى داود: 266 بتحقيقي) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 352
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19261) (ضعیف الإسناد مرسل) (خصیف اور شریک حافظے کے ضعیف راوی ہیں، نیز مجاہد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت میں صحابی کا ذکر نہیں کیا)
سنن النسائي • حدیث #4152
4150 4151 4152 4153 4154

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4138 أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ...
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری جب عبداللہ بن زبیر کے عہد میں شورش و ہنگامہ کے ایام میں ( حج ...
#4139 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَ...
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ سوال لکھا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ...
#4140 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَن...
اوزاعی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عمر بن ولید کو ایک خط لکھا : تمہارے باپ نے تقسیم کر کے پورا خ...
#4141 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ...
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ...
#4142 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ...
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القربی کا حصہ بنی ہاشم ا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ