سنن النسائي حدیث نمبر: 3510
Sunan an-Nasa'i 3510
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
46: بَابُ : إِذَا عَرَّضَ بِامْرَأَتِهِ وَشَكَّ فِي وَلَدِهِ وَأَرَادَ الاِنْتِفَاءَ مِنْهُ
باب: مرد عورت پر بدکاری کا شبہ کرے اور بیٹے کے بارے میں شک کرے اور اس سے اپنی برأت کا ارادہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ حِمْصِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي؟ قَالَ: فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ؟ قَالَ: فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ، قَالَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَا يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، إِلَّا أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا : اللہ کے رسول ! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ ؟ “ ، اس نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ ، اس نے کہا : جی ہاں ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” ان کے رنگ کیا ہیں ؟ “ ، اس نے کہا : سرخ ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ “ ، اس نے کہا : ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا ؟ “ ، اس نے کہا : میں نہیں جانتا ، اللہ کے رسول ! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو ( یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو “ ۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3510]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13170) (صحیح)