سنن النسائي حدیث نمبر: 3508
Sunan an-Nasa'i 3508
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تَرَى، أَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : ” کس رنگ کے ہیں ؟ “ ، اس نے کہا لال رنگ ( کے ہیں ) ، آپ نے فرمایا : ” کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے ؟ “ اس نے کہا : ( جی ہاں ) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں ، آپ نے فرمایا : ” تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ “ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو ۔ آپ نے فرمایا : ” ( یہی بات یہاں بھی سمجھو ) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3508]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا اس شخص کو اپنی بیوی پر شک ہوا کہ بیٹے کا کالا رنگ کہیں اس کی بدکاری کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ ۲؎: یعنی تم گرچہ گورے سہی تمہارے آباء و اجداد میں کوئی کالے رنگ کا رہا ہو گا اور اس کا اثر تمہارے بیٹے میں آ گیا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2260)، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200)، (تحفة الأشراف: 13129)، صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، والحدود 41 (6847)، والاعتصام 12 (7314)، سنن الترمذی/الولاء 4 (2129)، مسند احمد (2/334، 239، 409) (صحیح)