سنن النسائي حدیث نمبر: 3509
Sunan an-Nasa'i 3509
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
46: بَابُ : إِذَا عَرَّضَ بِامْرَأَتِهِ وَشَكَّ فِي وَلَدِهِ وَأَرَادَ الاِنْتِفَاءَ مِنْهُ
باب: مرد عورت پر بدکاری کا شبہ کرے اور بیٹے کے بارے میں شک کرے اور اس سے اپنی برأت کا ارادہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ، قَالَ: فَمَا ذَاكَ تُرَى؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ , قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ ، اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ “ اس نے کہا : سرخ ، آپ نے فرمایا : ” کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے ؟ “ اس نے کہا ( جی ہاں ) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ “ اس نے کہا : کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا ۔ آپ نے فرمایا : ” ( یہ بھی ایسا ہی سمجھ ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3509]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2261)، (تحفة الأشراف: 13273)، مسند احمد (2/233، 279) (صحیح)