سنن النسائي حدیث نمبر: 3478
Sunan an-Nasa'i 3478
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
29: بَابُ : خِيَارِ الأَمَةِ
باب: آزادی پانے والی لونڈی کو اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ، أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا، وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَأُعْتِقَتْ، " فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا"، وَكَانَ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا، فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كُلُوهُ فَإِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی ذات سے تین قضیے ( مسئلے ) سامنے آئے : بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکان نے ان کو بیچ دینا اور ان کی ولاء ( وراثت ) کا شرط لگانا چاہا ، میں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” ( ان کے شرط لگانے سے کچھ نہیں ہو گا ) تم اسے خرید لو اور اسے آزاد کر دو ، ولاء ( میراث ) اس کا حق ہے جو اسے آزاد کرے “ ، اور وہ ( خرید کر ) آزاد کر دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے آپ کو منتخب کر لیا ( یعنی اپنے شوہر سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ) ، اسے صدقہ دیا جاتا تھا تو اس صدقہ میں ملی ہوئی چیز میں سے ہمیں ہدیہ بھیجا کرتی تھی ، میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا : ” اسے کھاؤ وہ ( چیز ) اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3478]
💡 وضاحت:
۱؎: اور ہدیہ قبول کرنا ہمارے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 52 (1075)، العتق 2 (1504)، (تحفة الأشراف: 17528)، مسند احمد (6/45)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2336، 2337) (صحیح)