سنن النسائي حدیث نمبر: 3477
Sunan an-Nasa'i 3477
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
29: بَابُ : خِيَارِ الأَمَةِ
باب: آزادی پانے والی لونڈی کو اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ إِحْدَى السُّنَنِ: أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ؟" فَقَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے تین سنتیں تھیں ۱؎ ، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں ، ( آزادی کے باعث ) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا ( اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا ) اور ( دوسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولاء ( میراث ) آزاد کرنے والے کا حق ہے “ ، اور ( تیسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے ) گھر گئے ( اس وقت ان کے یہاں ) ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا ، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے گوشت کی ہنڈیا نہیں دیکھی ہے ؟ “ ( تو پھر گوشت کیوں نہیں لائے ؟ ) لوگوں نے عرض کیا : ہاں ، اللہ کے رسول ! ( آپ نے صحیح دیکھا ہے ) لیکن یہ گوشت وہ ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ( اس لیے آپ کے سامنے گوشت نہیں رکھا گیا ہے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ( جب تم اسے مجھے پیش کرو گے تو ) وہ میرے لیے ہدیہ ہو گا ( اس لیے اسے پیش کر سکتے ہو ) “ ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3477]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بریرہ رضی الله عنہا کے سبب تین سنتیں وجود میں آئیں۔ ۲؎: ولاء اس میراث کو کہتے ہیں جو آزاد کردہ غلام یا عقد موالاۃ کی وجہ سے حاصل ہو۔ ۳؎: معلوم ہوا کہ کسی چیز کی ملکیت مختلف ہو جائے تو اس کا حکم بھی مختلف ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ النکاح 19 (5097)، الطلاق 24 (5279)، العتق 10 (2536)، الأطعمة 31 (5430)، الفرائض20 (6754)، 22 (6757)، 23 (6759)، م /الزکاة 52 (1075)، العتق 2 (1504)، (تحفة الأشراف: 17449) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفرائض 12 (2915)، سنن الترمذی/البیوع 33 (1256)، والولاء 1 (2125)، موطا امام مالک/الطلاق 10 (25)، مسند احمد (6/178) (صحیح)