📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: طلاق کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق) 🏷️ باب: باب: آزاد شخص کی غلام بیوی آزاد ہو تو اسے اختیار کا حق حاصل ہو گا۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 3479 Sunan an-Nasa'i 3479
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
30: بَابُ : خِيَارِ الأَمَةِ تُعْتَقُ وَزَوْجُهَا حُرٌّ
باب: آزاد شخص کی غلام بیوی آزاد ہو تو اسے اختیار کا حق حاصل ہو گا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ"، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، قَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا أَقَمْتُ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو اس کے ( بیچنے والے ) مالکان نے اس کی ولاء ( وراثت ) کی شرط لگائی ( کہ اس کے مرنے کا ترکہ ہم پائیں گے ) ، میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء ( میراث ) اس شخص کا حق ہوتا ہے جو پیسہ خرچ کرے ( یعنی لونڈی یا غلام خرید کر آزاد کرے ) ، چنانچہ میں نے اسے آزاد کر دیا پھر ( میرے آزاد کر دینے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا اختیار دیا ۔ اس نے کہا : اگر وہ مجھے اتنا اتنا دیں تب بھی میں ان کے پاس نہیں رہوں گی ، اس نے اپنے حق خود اختیاری کا استعمال کیا ( اور علیحدگی ہو گئی ) ، اس کا شوہر آزاد شخص تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3479]
💡 وضاحت:
۱؎: عائشہ رضی الله عنہا سے ایک دوسری حدیث رقم (۳۴۸۱) میں بریرہ رضی الله عنہا کے شوہر سے متعلق آیا ہے «وکان عبدا» یعنی وہ آزاد نہیں بلکہ غلام تھے، اسی طرح ابن عباس کی حدیث میں بھی ہے کہ وہ غلام تھے۔ اس لیے اس سلسلہ میں مناسب اور معقول توجیہ یہ ہے کہ وہ غلام تھے پھر آزاد کر دئے گئے، جن کو ان کی آزادی کی اطلاع نہیں ملی انہوں نے اصل کی بنیاد پر انہیں عبد کہا، ممکن ہے عائشہ رضی الله عنہا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہو۔ صحیح روایات کی موجودگی کہ بریرہ رضی الله عنہا کے شوہر آزاد تھے، اس حدیث میں یہ ذکر کرنا کہ وہ آزاد تھے شاذ اور ضعیف ہے اس لیے کہ یہ ثقات کی روایت کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله وكان زوجها حرا فإنه شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ العتق 10 (2536)، الفرائض 20 (6754)، 22 (6758)، سنن الترمذی/البیوع 12 (1256)، الولاء 1 (2125)، (تحفة الأشراف: 15992) (صحیح) (حدیث میں ’’وکان زوجہاحرا‘‘ کا لفظ شاذ ہے)
سنن النسائي • حدیث #3479
3477 3478 3479 3480 3481

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3480 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَ...
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا ت...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ