سنن النسائي حدیث نمبر: 3476
Sunan an-Nasa'i 3476
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
28: بَابُ : خِيَارِ الْمَمْلُوكَيْنِ يُعْتَقَانِ
باب: آزاد کیے گئے غلام میاں بیوی کو اختیار حاصل ہو گا یا نہیں؟
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَ لِعَائِشَةَ غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ، قَالَتْ: فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ابْدَئِي بِالْغُلَامِ قَبْلَ الْجَارِيَةِ".
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی ( یہ دونوں میاں بیوی تھے ) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں ۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا تو آپ نے فرمایا : ” لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو ( پھر لونڈی کو ) “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3476]
💡 وضاحت:
۱؎: غالباً ایسا عورت کے مقابلے میں مرد کی بزرگی و بڑائی کے باعث کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 22 (2237)، سنن ابن ماجہ/العتق 10 (2532) (تحفة الأشراف: 17534) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن بن موہب ضعیف ہیں)