سنن النسائي حدیث نمبر: 3270
Sunan an-Nasa'i 3270
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
35: بَابُ : الثَّيِّبِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ
باب: باپ بیوہ کی شادی اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دے تو کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعِ ابني يزيد ابن جارية الأنصاري، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَدَّ نِكَاحَهُ".
خنساء بنت خذام رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور یہ بیوہ تھیں ، یہ شادی انہیں پسند نہ آئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3270]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 42 (5138)، الإکراہ (6940)، الحیل 11 (6969)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2101)، سنن ابن ماجہ/النکاح 12 (1873)، (تحفة الأشراف: 15824)، موطا امام مالک/النکاح11 (5139)، مسند احمد (6/328)، سنن الدارمی/النکاح 14 (2238) (صحیح)