سنن النسائي حدیث نمبر: 3272
Sunan an-Nasa'i 3272
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
36: بَابُ : الْبِكْرِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ
باب: باپ اپنی کنواری لڑکی کی شادی اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دے تو کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ، فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «یتیمہ» کنواری لڑکی کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ چپ رہے تو یہی ( اس کا چپ رہنا ہی ) اس کی جانب سے اجازت ہے ، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر کوئی زور ( زور و دباؤ ) نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3272]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر وہ راضی نہیں ہوئی تو کوئی اور رشتہ دیکھو اور اگر وہ اس وقت شادی کرنا نہیں چاہتی تو اس وقت کا انتظار کرو جب وہ اس کے لیے آمادہ ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15110)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 24 (2093)، سنن الترمذی/النکاح 19 (1109)، مسند احمد (2/259، 475) (حسن)