سنن النسائي حدیث نمبر: 3271
Sunan an-Nasa'i 3271
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
36: بَابُ : الْبِكْرِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ
باب: باپ اپنی کنواری لڑکی کی شادی اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دے تو کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ فَتَاةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ وَأَنَا كَارِهَةٌ، قَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا، فَدَعَاهُ، فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ أَلِلنِّسَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان لڑکی ان کے پاس آئی ، اور اس نے کہا : میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس کی خست اور کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے کر دی ہے ، حالانکہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں ، انہوں نے اس سے کہا : بیٹھ جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ لینے دو ( پھر اپنا قضیہ آپ کے سامنے پیش کرو ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لے آئے تو اس نے آپ کو اپنے معاملے سے آگاہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کو بلا بھیجا ( اور جب وہ آ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اس ( لڑکی ) کے اختیار میں دے دیا اس ( لڑکی ) نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے والد نے جو کچھ کر دیا ہے ، میں نے اسے قبول کر لیا ( ان کے کئے ہوئے نکاح کو رد نہیں کرتی ) لیکن میں نے ( اس معاملہ کو آپ کے سامنے پیش کر کے ) یہ جاننا چاہا ہے کہ کیا عورتوں کو بھی کچھ حق و اختیار حاصل ہے ( سو میں نے جان لیا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3271]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، عبد الله بن بريدة لم يسمع من عائشة رضي الله عنها (انظر سنن الترمذي: 3513 بتحقيقي) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ السنائي (تحفة الأشراف: 16186)، وأخرجہ سنن ابن ماجہ/النکاح 12 (1874) من حدیث عائشة (ضعیف شاذ)