سنن النسائي حدیث نمبر: 2706
Sunan an-Nasa'i 2706
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
42: بَابُ : مَوْضِعِ الطِّيبِ
باب: خوشبو لگانے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ , وَسُفْيَانُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَحُ طِيبًا فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ پر تار کول مل دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور میرے جسم سے خوشبو بکھر رہی ہو ۔ تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور میں نے انہیں ان کی بات بتائی تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس پھرے ، آپ نے صبح کیا اس حال میں کہ آپ محرم تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2706]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 417 (صحیح)