سنن النسائي حدیث نمبر: 2705
Sunan an-Nasa'i 2705
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
42: بَابُ : مَوْضِعِ الطِّيبِ
باب: خوشبو لگانے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ" لَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَطُوفُ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ يَنْضَحُ طِيبًا".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے ۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا ، تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے ، میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی ، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے ، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2705]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق وليس عند خ ذكر الإطلاء
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 417 (صحیح)