📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل (كتاب الزكاة) 🏷️ باب: باب: اللہ عزوجل کی ذات کا وسیلہ دے کر سوال کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 2569 Sunan an-Nasa'i 2569
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
73: بَابُ : مَنْ سَأَلَ بِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ عزوجل کی ذات کا وسیلہ دے کر سوال کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَلَّا، آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ: " بِالْإِسْلَامِ" , قَالَ: قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: " أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ بَعْدَمَا أَسْلَمَ عَمَلًا، أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ".
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا ۔ آپ کے پاس آیا ہوں ، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں ( اب بھی کچھ نہیں سمجھتا ) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے ۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں : اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسلام دے کر “ ، میں نے عرض کیا : ” اسلام کی نشانیاں کیا ہیں ؟ “ تو آپ نے فرمایا : ” یہ ہے کہ تم کہو : میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کر لیا ہے ، اور تم نماز قائم کرو ، زکاۃ دو ۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۱؎ ۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے ، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا ، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2569]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہر مسلمان کی جان، مال عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دار الشرک سے دار السلام کی طرف ہجرت واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2438 (حسن)
سنن النسائي • حدیث #2569
2567 2568 2569 2570 2571
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ