سنن النسائي حدیث نمبر: 2567
Sunan an-Nasa'i 2567
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
71: بَابُ : مَنْ يُسْأَلُ وَلاَ يُعْطِي
باب: جس سے مانگا جائے اور وہ نہ دے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتَلَمَّظُ فَضْلَهُ الَّذِي مَنَعَ".
بہز بن حکیم اپنے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” آدمی اپنے مالک کے پاس اس کی ضرورت سے زائد و فاضل چیز مانگنے آئے ، اور وہ اسے نہ دے تو اس کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا ( زہریلا ) سانپ بلایا جائے گا ، جو اس کے فاضل مال کو جسے اس نے دینے سے انکار کر دیا تھا چاٹتا پھرے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2567]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ فاضل و زائد مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا الٹا اس کے لیے وبال بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2438 (حسن)