سنن النسائي حدیث نمبر: 2570
Sunan an-Nasa'i 2570
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
74: بَابُ : مَنْ يُسْأَلُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلاَ يُعْطِي بِهِ
باب: اس شخص کا بیان جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا" , قُلْنَا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ، وَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ" , قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، وَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ" , قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُعْطِي بِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں لوگوں میں مرتبہ کے اعتبار سے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ضرور بتائیے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کا سر تھامے رہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے ، یا وہ قتل کر دیا جائے ، اور میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبہ میں اس سے قریب تر ہے “ ۔ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! بتائیے ، آپ نے فرمایا : ” یہ وہ شخص ہے جو لوگوں سے کٹ کر کسی وادی میں ( گوشہ نشین ہو جائے ) نماز قائم کرے ، زکاۃ دے اور لوگوں کے شر سے الگ تھلگ رہے ، اور میں تمہیں لوگوں میں برے شخص کے بارے میں بتاؤں ؟ “ ، ہم نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیے ، آپ نے فرمایا : ” وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2570]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/فضائل الجھاد 18 (1652)، (تحفة الأشراف: 5980)، مسند احمد (1/237، 319، 322)، سنن الدارمی/الجھاد 6 (2440) (صحیح)