سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 520
Sunan Ibn Majah 520
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
76: بَابُ : الْحِيَاضِ
باب: حوض اور تالاب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ فَإِذَا فِيهِ جِيفَةُ حِمَارٍ، قَالَ: فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، اسْتَقَيْنَا، وَأَرْوَيْنَا، وَحَمَلْنَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس ( کے استعمال ) سے رک گئے ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی “ ( یہ سنا ) تو ہم نے پیا پلایا ، اور پانی بھر کر لاد لیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 520]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قصة الجيفة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد فيه طريف بن شهاب،وقد أجمعوا علي ضعفه‘‘ وھو ضعيف (ترمذي: 238) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3114) (صحیح) (سند میں طریف بن شہاب اور شریک القاضی ضعیف ہیں، اس لئے یہ اسناد ضعیف ہے، اور جیفہ حمار کا قصہ صحیح نہیں ہے، لیکن بقیہ مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ا لإرواء: 14، وصحیح ابی داود: 59)