سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 519
Sunan Ibn Majah 519
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
76: بَابُ : الْحِيَاضِ
باب: حوض اور تالاب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ، وَالْكِلَابُ، وَالْحُمُرُ، وَعَنِ الطَّهَارَةِ مِنْهَا؟ فَقَالَ لَهَا: " مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا، وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں ، اور ان پر درندے ، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں ، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا ، وہ ان کا حصہ ہے ، اور جو پانی حوض ( تالاب ) میں بچا ، وہ ہمارے لیے پاک کرنے والا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 519]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ عبد الرحمٰن بن زيد: ضعيف ¤ وكان يروي عن أبيه أحاديث موضوعة والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4186، ومصباح الزجاجة: 216) (ضعیف) (عبدالرحمن بن زید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1609)