سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 521
Sunan Ibn Majah 521
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
76: بَابُ : الْحِيَاضِ
باب: حوض اور تالاب کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، إِلَّا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ، وَطَعْمِهِ، وَلَوْنِهِ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو ، مزہ اور رنگ پر غالب آ جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 521]
💡 وضاحت:
۱؎: نجاست پڑنے کے بعد اگر پانی میں بو، رنگ اور مزہ کی تبدیلی ہو جائے تو وہ پانی کم ہو یا زیادہ نجس و ناپاک ہو جائے گا، اس پر علماء کا اجماع ہے کما تقدم۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد فيه رشدين وھو ضعيف واختلف عليه مع ضعفه“ ويغني عنه الإجماع،انظر: الإجماع لابن المنذر (ص 33 نص 11،12) رشدين: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4860، ومصباح الزجاجة: 218) (ضعیف) (رشدین اور راشد بن سعد دونوں ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں ہے، لیکن علماء کا اس کے عمل پر اجماع ہے، یعنی اگر نجاست پڑنے سے پانی میں تبدیلی پیدا ہو جائے تو وہ پانی نجس ہے)