سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4254
Sunan Ibn Majah 4254
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
30: بَابُ : ذِكْرِ التَّوْبَةِ
باب: توبہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , سَمِعْتُ أَبِي , حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً , فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا , فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 , فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلِي هَذِهِ , فَقَالَ: " هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے ، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ” نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے ایک حصے میں ، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے “ ( سورۃ ہود : ۱۱۴ ) ، اس شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ ( خاص ) میرے لیے ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4254]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 4 (526)، تفسیر القرآن 6 (4687)، صحیح مسلم/التوبة 7 (2763)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 12 (3114)، (تحفة الأشراف: 9376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/385، 430) (صحیح)