سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4249
Sunan Ibn Majah 4249
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
30: بَابُ : ذِكْرِ التَّوْبَةِ
باب: توبہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ , عَنْ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ , فَالْتَمَسَهَا , حَتَّى إِذَا أَعْيَى تَسَجَّى بِثَوْبِهِ , فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةَ الرَّاحِلَةِ حَيْثُ فَقَدَهَا , فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ , فَإِذَا هُوَ بِرَاحِلَتِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی آدمی کی سواری چٹیل میدان میں کھو جائے ، وہ اس کو تلاش کرے یہاں تک کہ جب وہ تھک جائے تو کپڑے سے اپنا منہ ڈھانک کر لیٹ جائے ، اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کے قدموں کی چاپ وہاں سے آتی سنے جہاں اسے کھویا تھا ، وہ اپنے چہرے سے اپنا کپڑا اٹھائے تو دیکھے کہ اس کی سواری موجود ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4249]
قال الشيخ الألباني:
منكر بهذا اللفظ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عطية: ضعيف مدلس (تقدم:576) ولأصل الحديث شواهد عند البخاري (2308) و مسلم (2744) وغيرهما۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4231، ومصباح الزجاجة: 1520)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/83) (منکر) (سند میں سفیان بن وکیع متروک اور عطیہ العوفی ضعیف ہیں، ثقہ راویوں کی روایات اس کے برخلاف ہے)