سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4248
Sunan Ibn Majah 4248
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
30: بَابُ : ذِكْرِ التَّوْبَةِ
باب: توبہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدِينِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءَ , ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں ، پھر تم توبہ کرو تو ( اللہ تعالیٰ ) ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4248]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ بندہ کے گناہ چاہے وہ جتنے زیادہ ہوں، ان کی مغفرت کے لئے کی جانے والی توبہ کو اللہ تعالی ضرور قبول کرے گا، بشرطیکہ یہ توبہ خلوص دل سے ہو، اس حدیث سے یہ قطعاً نہ سمجھا جائے کہ گناہ کثرت سے کئے جائیں اور پھر توبہ کر لی جائے، کیونکہ حدیث میں توبہ کی اہمیت بتائی گئی ہے، نہ کہ بکثرت گناہ کرنے کی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14830، ومصباح الزجاجة: 1519) (حسن صحیح)