سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3925
Sunan Ibn Majah 3925
کتاب #36: کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
10: بَابُ : تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا
باب: خواب کی تعبیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ ابْنِ الْهَادِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا جَمِيعًا , فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الْآخَرِ , فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا فَاسْتُشْهِدَ , ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ , قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ , إِذَا أَنَا بِهِمَا فَخَرَجَ خَارِجٌ مِنَ الْجَنَّةِ , فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ الْآخِرَ مِنْهُمَا , ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ , فَقَالَ: ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ يَأْنِ لَكَ بَعْدُ , فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ فَعَجِبُوا لِذَلِكَ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثُوهُ الْحَدِيثَ , فَقَالَ: " مِنْ أَيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا كَانَ أَشَدَّ الرَّجُلَيْنِ اجْتِهَادًا ثُمَّ اسْتُشْهِدَ , وَدَخَلَ هَذَا الْآخِرُ الْجَنَّةَ قَبْلَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً" , قَالُوا: بَلَى , قَالَ: " وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ , فَصَامَ وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا مِنْ سَجْدَةٍ فِي السَّنَةِ" , قَالُوا: بَلَى , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دور دراز کے دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ دونوں ایک ساتھ اسلام لائے تھے ، ان میں ایک دوسرے کی نسبت بہت ہی محنتی تھا ، تو محنتی نے جہاد کیا اور شہید ہو گیا ، پھر دوسرا شخص اس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا ، اس کے بعد وہ بھی مر گیا ، طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں ، اتنے میں وہ دونوں شخص نظر آئے اور جنت کے اندر سے ایک شخص نکلا ، اور اس شخص کو اندر جانے کی اجازت دی جس کا انتقال آخر میں ہوا تھا ، پھر دوسری بار نکلا ، اور اس کو اجازت دی جو شہید کر دیا گیا تھا ، اس کے بعد اس شخص نے میرے پاس آ کر کہا : تم واپس چلے جاؤ ، ابھی تمہارا وقت نہیں آیا ، صبح اٹھ کر طلحہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے خواب بیان کرنے لگے تو لوگوں نے بڑی حیرت ظاہر کی ، پھر خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ، اور لوگوں نے یہ سارا قصہ اور واقعہ آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کس بات پر تعجب ہے “ ؟ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! پہلا شخص نہایت عبادت گزار تھا ، پھر وہ شہید بھی کر دیا گیا ، اور یہ دوسرا اس سے پہلے جنت میں داخل کیا گیا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا یہ اس کے بعد ایک سال مزید زندہ نہیں رہا ؟ “ ، لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ضرور زندہ رہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال میں تو اس نے رمضان کا مہینہ پایا ، روزے رکھے ، اور نماز بھی پڑھی اور اتنے سجدے کئے ، کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : یہ تو ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اسی وجہ سے ان دونوں ( کے درجوں ) میں زمین و آسمان کے فاصلہ سے بھی زیادہ دوری ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3925]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی عمل ضائع ہونے والا نہیں بشرطیکہ خلوص دل کے ساتھ اس کو راضی کرنے کے لیے کیا ہو، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تھوڑی عبادت کا درجہ بڑے عابد اور زاہد سے بڑھ جاتا ہے، خلوص اور محبت الہیٰ کے ساتھ تھوڑا عمل بھی سینکڑوں اعمال سے زیادہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أبو سلمة بن عبد الرحمٰن بن عوف لم يسمع من أبيه و لا من طلحة بن عبيد اللّٰه،قاله الإمام يحيي بن معين (تاريخ ابن معين،رواية الدوري: 1103) و حديث أحمد (2/ 333 ح 8399 و سنده حسن) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 516
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5017، ومصباح الزجاجة: 1372)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/163) (صحیح) (سند میں ابوسلمہ اور طلحہ کے مابین انقطاع ہے، لیکن دوسرے شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)